ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دور دراز علاقوں کے مریضوں کو علاج کی سہولت کے لئے وزیراعلیٰ کے ہاتھوں78 موبائل ایمبولنس کا افتتاح

دور دراز علاقوں کے مریضوں کو علاج کی سہولت کے لئے وزیراعلیٰ کے ہاتھوں78 موبائل ایمبولنس کا افتتاح

Sun, 26 Mar 2017 04:13:47    S.O. News Service

بنگلور.25/ مارچ (ایس او نیوز)  اب ہسپتال آپ کے دروازے پر آ جائے گا. جی ہاں، ریاستی حکومت نے اُن علاقوں میں جہاں اسپتال کا مناسب انتظام نہیں ہے اور شہروں سے کافی دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، اُن کو علاج کی بہتر سہولت کے لئے موبائل ایمبولنس کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جس کا افتتاح ریاست کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے کیا اورابتدا میں ہی 78 طبی موبائل ایمبولنس کو ہری جھنڈی دکھائی۔

افتتاحی تقریب میں وزیر اعلی نے کہا کہ جدید ترین خصوصیات پر مشتمل 78 موبائل طبی گاڑیوں میں موجود ڈاکٹر لاکھوں کی چوکھٹ پر پہنچ کر مریضوں  کا علاج کریں گے. انہوں نے بتایا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں آج بھی ناقابل رسائی علاقوں میں سینکڑوں خاندان رہتے ہیں، جنہیں وسائل کی غیر موجودگی میں معیاری طبی امدادنہیں مل پاتی. ایسے لوگوں کے لئے یہ منصوبہ بے حد مفید ثابت ہوگا. یہ گاڑی ان ناقابل رسائی علاقوں تک بھی پہنچیں گے جہاں سے مریض ہسپتالوں تک پہنچنے کے قابل نہیں ہے. اس کے لئے حکومت نے چھ سو کروڑ روپے جاری کئے ہیں.

جلد ہی اس سروس کی گاڑیوں کی تعداد 130 تک پہنچے گی. ان میں ڈاکٹر، میڈیکل اسٹاف کے ساتھ دوائیاں اور دیگر سامان ہوں گے. یہ گاڑی ریاست کے ناقابل رسائی علاقوں کے دیہاتوں میں صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک اور دوپہر 2.30 بجے سے شام کو 5 بجے تک طبی امداد فراہم کریں گے. ہر ایمبولنس  کے احاطے  میں 15 دیہی علاقے شامل کئے گئے ہیں. طے شدہ علاقوں میں یہ گاڑی ہر دن دستیاب ہوں گی. گاڑیوں میں ذیابیطس، بلڈ پریشر، گھٹنوں میں درد کی مفت طبی جانچ کے ساتھ ساتھ مفت ادویات تقسیم کی جائیں گی.

سدارامیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں اب معیاری طبی سہولیات دستیاب ہیں، ایسے میں نجی اسپتالوں میں جانا  چھوڑیں. انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ نجی ہسپتالوں میں علاج  مہنگا ہونے کے باوجود کئی لوگ سرکاری ہسپتالوں کے بدلے نجی ہسپتالوں میں ہی طبی امداد حاصل کرنا چاہتے ہیں. عام لوگوں کو چاہئے کہ اس رجحان میں تبدیلی لائیں. معاشرے کے تمام طبقات، خاص طور پر  غریب طبقے کو معیاری صحت کے لئے طبی امداد مہیا کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے. سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر، میریٹ میں کامیاب ہوکر ڈاکٹر بننے والے ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر بے حد ذہین اور نہایت  باصلاحیت ہوتے ہیں، اور یہ ڈاکٹرس خود غربت  میں رہ کرکافی جدوجہد کرکے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، پرائیویٹ اسپتالوں میں جو ڈاکٹرس ہوتے ہیں وہ کافی بڑا ڈونیشن اور لاکھوں روپیہ خرچ کرکے ڈاکٹر بنتے ہیں۔ ایسے ڈاکٹر طبی تعلیم کے لئے اخراجات کو ایک سرمایہ کاری مان کر اس سرمایہ کاری سے 100 گنا  زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے مقصد کو لے کر کام کرتے ہیں. ایسے ڈاکٹروں سے صحیح  طبی امداد کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ انہوں نے تمام عوام سے درخواست کی کہ وہ سرکاری اسپتالوں میں ہی اپنا علاج کرائیں۔
 


Share: